هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرًا ، الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو , أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ , أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي فِي الْبَعْثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلًم:" أَلَسْتَ تُحِبًّ مَا أُحِبُّ؟" , قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَأْتِنِي بِهَا" , فَذَهَبْتُ، فَجِئْتُهُ بِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی لشکر میں شامل تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جا کر میرے پاس میمونہ کو بلا کر لاؤ“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں لشکر میں شامل ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی، میں نے اپنا عذر دوبارہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے جسے میں پسند کرتا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، چنانچہ میں جا کر انہیں بلا لایا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن صح سماع الحسن بن على من جده أبى رافع
الحكم: إسناده صحيح إن صح سماع الحسن بن على من جده أبى رافع