يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِا الْحَكَمُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: أَلَا تَصْحَبُنِي تُصِيبُ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ له، فَقَالَ: " إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ارقم رضی اللہ عنہ یا ان کے صاحبزادے میرے پاس سے گزرے، انہیں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابورافع! محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر زکوٰۃ حرام ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27182]
الحكم: إسناده صحيح