عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجِمَارَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، قَالَتْ: فَرَمَى سَبْعًا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَقِفْ، قَالَتْ: وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے آڑ کا کام کر رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27132]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو