بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27127
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27127
حدیث نمبر: 27127 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ ، قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ أَعَادَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ عَادَ , فَسَكَتَ سَعْدٌ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ: أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْتِ؟" , قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ:" لَا مَرْحَبًا بِكِ , وَلَا أَهْلًا , أَتُهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاء؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام طارق رضی اللہ عنہا جو کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ باندی ہیں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اندر آنے کی اجازت چاہی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اجازت طلب کی اور وہ تینوں مرتبہ خاموش رہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چل پڑے، سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے بھیجا اور کہا کہ ہمیں آپ کو اجازت دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمیں سلامتی کی دعا دیں، ام طارق رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ پھر میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی کہ وہ اجازت طلب کر رہا ہے، لیکن کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں ام ملدم (بخار) ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی خوش آمدید نہیں، کیا تم اہل قباء کا راستہ جانتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہاں چلی جاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27127]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جعفر بن عبدالرحمن
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جعفر بن عبدالرحمن
← پچھلی حدیث (27126) باب پر واپس اگلی حدیث (27128) →