هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ أَبِي الْوَلِيدِ ، خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ
َحدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ , وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہما ”جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں“، سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت گھسنے والے ایسے ہیں جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27124]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد سنوطا، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد سنوطا، وقد توبع