يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، حَبِيبٌ الْأَنْصَارِيُّ ، لَيْلَى ، أُمِّ عُمَارَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ لَيْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، قَالَ:" ادْنِي فَكُلِي" , قَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، قَالَ: " الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھجوریں پیش کیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام عمارہ سے فرمایا: ”تم بھی قریب آ کر کھاؤ“، انہوں نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے روزہ توڑنے والی چیز یں کھائی جا رہی ہوں تو ان لوگوں کے اٹھنے تک فرشتے اس روزے دار کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27060]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ليلي مولاة حبيب، وقد اختلف فيه على شعبة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ليلي مولاة حبيب، وقد اختلف فيه على شعبة