عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْأَعْمَشُ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، كُلْثُومٍ ، زَيْنَبُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ كُلْثُومٍ ، قَالَتْ: كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ، وَأَنَّهُنَّ يَخْرُجْنَ مِنْهُ، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ، فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ، وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ، تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ" , فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَنْ: يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ" ، فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ، فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کلثوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے جوئیں نکال رہیں تھی، اس وقت وہاں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی موجود تھیں اور دیگر مہاجر خواتین بھی، وہ اپنی گھریلو مشکلات کا تذکرہ کر رہی تھیں اور یہ کہ مکہ مکرمہ سے نکل کر وہ تنگی کا شکار ہو گئی ہیں، حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر چھوڑ کر اس گفتگو میں شریک ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے آنکھوں سے بات نہیں کرنی، باتیں بھی کرتی رہو اور اپنا کام بھی کرتی رہو۔“ اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم جاری کر دیا کہ مہاجرین کی عورتیں وراثت کی حقدار ہوں گی، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات پر ان کی بیوی مدینہ منورہ میں ایک گھر کی وارث قرار پائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27050]
الحكم: إسناده حسن