أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أُمِّ مُبَشِّرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ، قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" , قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟! قَالَ:" نَعَمْ، عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک میں مرتبہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے، اس باغ میں زمانہ جاہلیت میں مر جانے والے کچھ لوگوں کی قبریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انہیں عذاب دیئے جانے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کہتے ہوئے اس باغ سے باہر آ گئے کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا انہیں قبروں میں عذاب ہو رہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور جانور بھی اس عذاب کو سنتے ہیں۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27044]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن