بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27015
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27015
حدیث نمبر: 27015 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ، يَعْنِي إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا، أَوْ نَحْوَ مُدٍّ وَرُبُعٍ قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى الْهَاشِمِيِّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْمَاءَ فِي هَذَا، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّةً يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَقَالَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، قَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ، فَسَأَلَنِي وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لي: مَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا مَسْحَتَيْنِ وَغَسْلَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے امام زین العابدین رحمہ اللہ نے حضرت ربیع رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، میں نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کا طریقہ پوچھا، تو انہوں نے ایک برتن نکالا جو ایک مد یا سوا مد کے برابر ہو گا اور فرمایا کہ میں اس برتن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پانی نکالتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، پھر تین مرتبہ چہرہ دھوتے تھے، تین مرتبہ کلی کرتے تھے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے، تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو اور تین مرتبہ بائیں ہاتھ کو دھوتے تھے، سر کا آگے، پیچھے سے مسح کرتے تھے، پھر تین مرتبہ پاؤں دھوتے تھے، تمہارے ابن عم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی میرے پاس یہی سوال پوچھنے کے لئے آئے تھے اور میں نے انہیں بھی یہی جواب دیا تھا لیکن انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے تو کتاب اللہ میں دو چیزوں پر مسح اور دو چیزوں کو دھونے کا حکم ملتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27015]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
← پچھلی حدیث (27014) باب پر واپس اگلی حدیث (27016) →