أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ , وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ , قَالَتْ: فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ , قَالَتْ: فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي , قَالَ: فَقَالَ شُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ، فَارْبِطِي بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ، وَالْآخَرِ السُّفْرَةَ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ: ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ کیا تو حضرت صدیق اکبر کے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے سامان سفر میں نے تیار کیا تھا، مجھے سامان سفر اور مشکیزے کا منہ باندھنا تھا لیکن اس کے لئے مجھے کوئی چیز نہ مل سکی، میں نے حضرت صدیق اکبر سے عرض کیا کہ مجھے اپنے کمربند کے علاوہ کوئی چیز سامان سفرباندھنے کے لئے نہیں مل رہی، انہوں نے فرمایا اسے دو ٹکڑے کردو اور ایک ٹکڑے سے مشکیزے کا منہ باندھ دو اور دوسرے سے سامان سفر، اسی وجہ سے میرا نام " ذات النطاقین " پڑگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2979، م: 2545
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2979، م: 2545