سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ بَيْتِي؟ قَالَ: " أَنْفِقِي، وَلَا تُوكِي، فَيُوكَى عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26912]
الحكم: اسناده صحيح