يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَاهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، " فَرَدَّ عَنْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا" ، فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ , فَذَكَرَ يَحْيَى , أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن یزید اور مجمع سے مروی ہے کہ خنساء کے والد خذام نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہردیدہ تھیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا اور خنساء نے حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر سے نکاح کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5138
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5138