يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَتْ خَالَتَهُ , فَسَقَتْنِي شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، فَلَمَّا قُمْتُ، قَالَتْ لِي: أَيْ بُنَيَّ، لَا تُصَلِّيَنَّ حَتَّى تَتَوَضَّأَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26785]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين