عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمُ ، عَلْقَمَةَ ، الْقَرْثَعِ ، قَيْسٍ أَوْ ابْنِ قَيْسٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ الْقَرْثَعِ ، عَنِ قَيْسٍ أَوْ ابْنِ قَيْسٍ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَأَبُو بَكْرٍ، عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَامَ، فَسَمِعَ قِرَاءَتَهُ، ثُمَّ رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ، وَسَجَدَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ"، قَالَ: ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ"، قَالَ: فَأَدْلَجْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لِأُبَشِّرَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا ضَرَبْتُ الْبَابَ، أَوْ قَالَ: لَمَّا سَمِعَ صَوْتِي، قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ لِأُبَشِّرَكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ سَبَقَكَ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: إِنْ يَفْعَلْ فَإِنَّهُ سَبَّاقٌ بِالْخَيْرَاتِ، مَا اسْتَبَقْنَا خَيْرًا قَطُّ إِلَّا سَبَقَنَا إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت قرآن پڑھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی قرأت سننے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رکوع سجدہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگو تمہیں دیا جائے گا“، پھر واپس جاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قرآن کریم کو اسی طرح تروتازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا ہے، اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قرأت پر اسے پڑھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رات ہی کو میں انہیں یہ خوشخبری ضرور سناؤں گا، چنانچہ جب میں نے ان کا دروازہ بجایا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کے اس وقت میں خیر تو ہے؟ میں نے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے خوشخبری سنانے کے لئے آیا ہوں، انہوں نے فرمایا: کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ پر سبقت لے گئے ہیں، میں نے کہا: اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو وہ نیکیوں میں بہت زیادہ آگے بڑھنے والے ہیں، میں نے جس معاملے میں بھی ان سے مسابقت کی کوشش کی، وہ ہر اس معاملے میں مجھ سے سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 265]
الحكم: إسناده صحيح