بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26418
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26418
حدیث نمبر: 26418 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبِيهِ ، الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ ، فَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ عَرْقًا، فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، فَقَامَ لِيُصَلِّيَ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَهْ، أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ؟" فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , فَقَالَ لِي: " أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مسجد میں دخل ہوتے تو پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے اور جب مسجد سے نکلتے تب بھی پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے۔ حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے میں نے ان کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا اباجان کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی کس چیز کی وجہ سے وضو کروں میں نے عرض کیا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا سب سے پاکیزہ کھانا وہ نہیں ہوتا جو آگ پر پکا ہو؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26418]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن لم يدرك جدته فاطمة ، و محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، واختلف عليه فيه
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن لم يدرك جدته فاطمة ، و محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، واختلف عليه فيه
← پچھلی حدیث (26417) باب پر واپس اگلی حدیث (26419) →