يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟ فَقَالَتْ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْهَا، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا"، قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ سَفَرٍ، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا، فَقَالَ: أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا" , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ: " كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ میرا وقت آخر قریب آگیا ہے اس پر میں رونے لگی، پھر فرمایا اور میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی، اس پر میں ہنسنے لگی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26415]
الحكم: إسناده حسن