أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، الْفِرَاسِ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، فَاطِمَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْفِرَاسِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِابْنَتِي" , ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ , ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا: اسْتَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ثُمَّ تَبْكِينَ! ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ" , فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟" قَالَتْ: فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ سامنے سے چلی آرہی تھیں اور ان کی چال بالکل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میری بیٹی کو خوش آمدید، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھالیا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں، میں نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خصوصیت کے ساتھ صرف تم سے سرگوشی فرما رہے ہیں اور تم پھر بھی رو رہی ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں، میں نے کہا کہ جس طرح غم کے اتنا قریب خوشی کو میں نے آج دیکھا ہے اب سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راز کسی کے سامنے بیان نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3623، م: 2450
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3623، م: 2450