بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 254
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 254
يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٌ ، الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، عُمَرُ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنِي الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، قَالَ: كُنْتُ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ، فَاجْتَهَدْتُ فَلَمْ آلُ، فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، فَمَرَرْتُ بِالْعُذَيْبِ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَبِهِمَا جَمِيعًا؟ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: دَعْهُ، فَلَهُوَ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا بَعِيرِي عَلَى عُنُقِي، فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : إِنَّهُمَا لَمْ يَقُولَا شَيْئًا،" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد قبیلہ بنو تغلب کے آدمی تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اور محنت کرنے میں کوئی کمی نہ کی۔ پھر میں نے میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے مقام عذیب میں میرا گزر ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی کہتے ہیں کہ اس جملے سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا اونٹ میری گردن پر ہے، میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں، آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 254]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (253) باب پر واپس اگلی حدیث (255) →