أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ، فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ، قَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي"، قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ" ، قَالَ: وَكُنَّا نَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَلَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ، هِيَ الْكَرَاكِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23976]
الحكم: اسناده حسن