مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، النَّهَّاسُ ، شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، قَالُوا: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟! أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا" ، قَالَ: بَلَى، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23973]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النهاس ابن قهم، ولانقطاعه، شداد لم يسمع من عوف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف النهاس ابن قهم، ولانقطاعه، شداد لم يسمع من عوف