عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ الْأَرْقَمُ الزُّهْرِيُّ أَوْ ابْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ وَاسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَاتِ، قَالَ: فَاسْتَتْبَعَنِي، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا أَبَا رَافِعٍ، " إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ارقم رضی اللہ عنہ یا ان کے صاحبزادے میرے پاس سے گذرے انہیں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو رافع! محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر زکوٰۃ حرام ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23863]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى