عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو النَّضْرِ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ ، أخبرنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، فَيَقُولُ: مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں تم میں سے جس کے پاس میری کوئی حدیث پہنچے اور وہ اپنے صوفے پر ٹیک لگائے کہتا ہے کہ مجھے تو یہ حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23861]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن