عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں انہوں نے منت مان رکھی تھی کیا ان کی طرف سے میرا کسی غلام کو آزاد کرنا کفایت کر جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23846]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي رواية سليمان بن كثير عن الزهري مقال، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وفي رواية سليمان بن كثير عن الزهري مقال، لكنه توبع