عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أخبرنا مَالِكٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنَ امْرَأَتِهِ فَيُمْذِي، قَالَ: " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أحَدُكم، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ" قَالَ: يَعْنِي: يَغْسِلُهُ" وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا ہے " اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کرلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن يسار لم يدرك المقداد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن يسار لم يدرك المقداد