يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي"، قَالَ: فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَتْ الْجَارِيَةُ أَوْ الْجُوَيْرِيَةُ؟" قَالَ: قُلْتُ: عِنْدَ أُمِّهَا، قَالَ:" فَمَجِيءُ مَا جِئْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي، فَقَالَ: " اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ: ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میرے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ میری طرف سے اس کی پرورش تمہارے ذمے ہے کچھ عرصے بعد میں دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اس بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کے پاس ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو کہ یہ شرک سے برأت کا اعلان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23807]
حکم دارالسلام
حديث حسن على اضطراب فى إسناده
الحكم: حديث حسن على اضطراب فى إسناده