بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23771
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23771
حدیث نمبر: 23771 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، فَلَقِيتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ، قَالَ: فَحَدِّثْنِي، قَالَ: كَانَ فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَجِيءَ إِلَى مَنْزِلِي تُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ وَيَذْكُرُونَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يَلْقَوْنَ مِنْهُمْ، وَيُسْنِدُونَ عِظَمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ الدُّخَيْشِنِ، وَوَدُّوا أَنْ لَوْ دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ، أَوْ تَمَسَّهُ النَّارُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہوجاتا ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کرلوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کرلیا چناچہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھرکے ایک کونے کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے پر روک لیا انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئے گا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 33
الحكم: إسناده صحيح، م: 33
← پچھلی حدیث (23770) باب پر واپس اگلی حدیث (23772) →