يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَلْمَانُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ، فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ، أُكْرِمُكَ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے دور غلامی میں ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسے کھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود نہ کھایا دوبارہ میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے جو میں آپ کے احترام میں آپ کے لئے لایا ہوں کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے بھی اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن