عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، رِجَالٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْقَسَامَةِ فِي الدَّمِ، قَالَ: كَانَتْ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَرَّهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بِهَا بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23668]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1670
الحكم: إسناده صحيح، م: 1670