سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبِيهِ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَسُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟ فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنَّ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23644]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الرجل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الرجل