رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو حُمَيْدٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، لَيْسَ بِمُخَمَّرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ" ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ، وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّا قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مقام نقیع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جو ڈھکا ہوا نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہ لیا اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھانپتے، حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ باندھنے کا اور رات کو دروازوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2010
الحكم: إسناده صحيح، م: 2010