سُفْيَانُ ، يَزِيدُ ، سُلَيْمَانَ بنِ عَمْرِو بنِ الْأَحْوَصِ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بعْضُكُمْ بعْضًا، إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ، وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ: يَزِيدُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ عَمْرِو بنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، يَعْنِي: عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23218]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو