عُمَرُ بنُ سَعْدٍ أَبو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابنَ أَبي زَائِدَةَ ، سَعْدُ بنُ طَارِقٍ ، بلَالِ بنِ يَحْيَى ، عِمْرَانَ بنِ حُصَيْنٍ ، أَعْرَابيٌّ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ سَعْدٍ أَبو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابنَ أَبي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بنُ طَارِقٍ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى ، عَنِ عِمْرَانَ بنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَعْرَابيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا"، قُلْتُ: مَا لَهُمْ؟ قَالَ:" أَشِحَّةٌ نَحِرَةٌ، وَإِنْ طَالَ بكَ عُمْرٌ، لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بيْنَ الْحَوْضَيْنِ، إِلَى هَذَا مَرَّةً، وَإِلَى هَذَا مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا مطلب؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23214]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين