يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، الْفَضْلِ بنِ عَمْرِو بنِ أُمَيَّةَ ، أَبيهِ ، رِجَالًا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بنِ عَمْرِو بنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه قَالَ: " إِذَا أعُتِقَتْ الْأَمَةُ، فَهِيَ بالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَطَأْهَا، إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ، وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
چند صحابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو " کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کرلے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کرچکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہوسکتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23208]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد اختلف عليه فيه