أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، وَلَيْثٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , وَلَيْثٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ، لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ، وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاروں رکعتوں میں قرأت اور قیام برابر کرتے تھے اور پہلی رکعت کو نستباً لمبا کردیتے تھے تاکہ لوگ اس میں شریک ہوجائیں اور صف بندی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مردوں کو لڑکوں سے آگے رکھتے بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے رکھتے تھے اور جب سجدے میں جاتے یا اس سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب