حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَهْلٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" , قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اس پر اللہ نے لعان کا حکم نازل کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق اپنا حکم نازل کردیا ہے چنانچہ میرے سامنے ان دونوں نے لعان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں جدا کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 423، م: 1492
الحكم: إسناده صحيح، خ: 423، م: 1492