بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22510
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22510
حدیث نمبر: 22510 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، السُّمَيْطُ ، أَبُو السَّوَّارِ ، خَالِهِ
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، حَدَّثَهُ أَبُو السَّوَّارِ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ فَأَتْبَعْتُهُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ، قَالَ: وَأَبْقَى الْقَوْمُ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً، إِمَّا بِعَسِيبٍ أَوْ قَضِيبٍ أَوْ سِوَاكٍ، وَشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ، قَالَ: أَوْ قُلْتُ: مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِشَيْءٍ عَلِمَهُ اللَّهُ فِيَّ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي , أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكَ رَاعٍ، فَلَا تَكْسِرَنَّ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ أَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ أُنَاسًا يَتْبَعُونِي، وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتْبَعُونِي , اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا" , أَوْ قَالَ:" مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً" , أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالسوار اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے ہیں میں بھی ان میں شامل ہوگیا اچانک لوگ دوڑنے لگے اور کچھ لوگ پیچھے رہ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے قریب پہنچ کر کسی ٹہنی، سرکنڈے، مسواک یا کسی اور چیز کے ساتھ ہلکی سی ضرب لگائی جو ان کے پاس تھی، لیکن بخدا! مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی رات ہوئی تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جو مارا ہے وہ یقینا کسی ایسی بات پر ہوگا جو اللہ نے انہیں میرے متعلق بتادی ہوگی پھر میرے دل میں خیال آیا کہ صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں، ادھر حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ وحی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے کہ آپ راعی ہیں لہٰذا اپنی رعیت کے سینگ نہ توڑیں۔ جب ہم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! کچھ لوگ میرے پیچھے چلتے ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ کوئی میرے پیچھے چلے اے اللہ! میں نے جسے مارا ہو یا سخت سست کہا ہو اسے اس کے لئے کفارہ اور باعث اجر بنا دے یا یہ فرمایا باعث مغفرت و رحمت بنا دے یا جیسے بھی فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22510]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (22509) باب پر واپس اگلی حدیث (22511) →