بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22487
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22487
حدیث نمبر: 22487 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ ، ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ ، فَقَالَ لِي: وَإِنَّهُ لَنَازِلٌ عَلَيَّ فِي بَيْتِي بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ، فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا، وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا، فَقَامَ فِينَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ" , ثُمَّ قَالَ:" لَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ الشَّامُ , وَالرُّومُ , وَفَارِسُ، أَوْ الرُّومُ , وَفَارِسُ حَتَّى يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْ الْبَقَرِ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْ الْغَنَمِ، حَتَّى يُعْطَى أَحَدُهُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا" , ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ هَامَتِي، فَقَالَ:" يَا ابْنَ حَوَالَةَ، إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ، فَقَدْ دَنَتْ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَايَا وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ، وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدَيَّ هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن زغب ایادی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن حوالہ میرے یہاں مہمان بن کر تشریف لائے اسی دوران انہوں نے ایک موقع پر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے آس پاس پیدل دستے کے ساتھ روانہ فرمایا تاکہ ہمیں مال غنیمت حاصل ہو لیکن ہم واپس آئے تو کچھ بھی مال غنیمت ہمیں نہ مل سکا تھا اور ہمارے چہروں پر مشقت کے آثار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس فرما لئے تھے اس لئے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا اے اللہ! انہیں دوسرے لوگوں کے حوالے نہ فرما کہ وہ ان پر غالب آجائیں پھر فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام، روم اور فارس فتح ہوجائیں گے حتی کہ تم میں سے ایک ایک آدمی کے پاس اتنے اتنے اونٹ گائیں اور بکریاں ہوں گی یہاں تک کہ اگر کسی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں پہنچ گئی ہے تو سمجھ لو کہ زلزلے مصبتیں اور بڑے بڑے امور قریب آگئے ہیں اور اس وقت قیامت لوگوں کے اتنے قریب آجائے گی جیسے میرا یہ ہاتھ تمہارے سر کے قریب ہے اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22487]
حکم دارالسلام
ضعيف، فقد تفرد به معاوية ابن صالح بهذه السياقة، وفي متنه نكارة
الحكم: ضعيف، فقد تفرد به معاوية ابن صالح بهذه السياقة، وفي متنه نكارة
← پچھلی حدیث (22486) باب پر واپس اگلی حدیث (22488) →