بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22477
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22477
حدیث نمبر: 22477 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قال عبد الله: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ بِالْكُوفَةِ، وَقَالَ لَنَا فِيهِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , وَأَمَّا أَبِي، فَحَدَّثَنَاهُ عَنْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيَّ، وَحَدَّثَنَاهُ بِالْكُوفَةِ، جَعَلَهُ لَنَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَهُ وَحْدَهُ عَيْنًا إِلَى قُرَيْشٍ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ، فَرَقَيْتُ فِيهَا، فَحَلَلْتُ خُبَيْبًا، فَوَقَعَ إِلَى الْأَرْضِ، فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا، وَلَا كَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ، فَلَمْ يُرَ لِخُبَيْبٍ أَثَرٌ حَتَّى السَّاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تنہا انہیں قریش کی طرف جاسوس بنا کر بھیجا (دشمنوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ان کی نعش کو لکڑی سے ٹانگ رکھا تھا میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی اس لکڑی کے پاس پہنچا مجھے قریش کے جاسوسوں کا خطرہ تھا اس لئے میں نے جلدی سے اوپر چڑھ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کھولا وہ زمین پر گرپڑے اور میں دور جا گرا جب میں پلٹ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ نظر نہ آئے ایسا لگتا تھا کہ زمین انہیں نگل گئی ہے یہی وجہ ہے اب تک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22477]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعدة علل
الحكم: إسناده ضعيف لعدة علل
← پچھلی حدیث (22476) باب پر واپس اگلی حدیث (22478) →