وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ ، عِيَاضِ بْنِ عِيَاضٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ فِيكُمْ مُنَافِقِينَ، فَمَنْ سَمَّيْتُ فَلْيَقُمْ" , ثُمَّ قَالَ:" قُمْ يَا فُلَانُ، قُمْ يَا فُلَانُ، قُمْ يَا فُلَانُ" , حَتَّى سَمَّى سِتَّةً وَثَلَاثِينَ رَجُلًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ" , قَالَ: فَمَرَّ عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ مِمَّنْ سَمَّى مُقَنَّعٍ قَدْ كَانَ يَعْرِفُهُ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: فَحَدَّثَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بُعْدًا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا تم میں سے بعض لوگ منافقین بھی ہیں، اس لئے میں جس کا نام لوں وہ اپنی جگہ کھڑا ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا اے فلاں! کھڑے ہوجاؤ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٣٦ آدمیوں کے نام لئے پھر فرمایا یہ لوگ تم ہی میں تھے اس لئے اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ ہی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی پر گذر ہوا جس نے اپناچہرہ چھپا رکھا تھا اور وہ ان ہی آدمیوں میں سے تھا جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لئے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے پہچانتے تھے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آج یہ فرمایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا دور ہوجا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22348]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عياض الراوي عن أبى مسعود، ومتنه منكر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عياض الراوي عن أبى مسعود، ومتنه منكر