بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22326
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22326
حدیث نمبر: 22326 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمَّنْ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، الْمَرْأَةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ الْمَرْأَةِ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا، فَأَكَلَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمُكَفِّرَاتِ الْخَطَايَا؟ قَالُوا: بَلَى , قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری عورت " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں شامل تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تشریف لائے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے تناول فرمایا پھر ہم نے وضو کا پانی پیش کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کے متعلق نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا طبعی ناپسندیدگی کے باوجود مکمل احتیاط کے ساتھ وضو کرنا، مسجدوں کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22326]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين الضحاك وعمرو بن عبدالله، وعمرو بن عبدالله لم يدرك أحدا من الصحابة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين الضحاك وعمرو بن عبدالله، وعمرو بن عبدالله لم يدرك أحدا من الصحابة
← پچھلی حدیث (22325) باب پر واپس اگلی حدیث (22327) →