مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، أَبِيهِ
حدثنا عبد الله , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى , فَقَالَ: " لَا يَخْتَلِجَنَّ أَوْ لَا يَحِيكَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ" . قَالَ: " وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ , وَيَضَعُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ھلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کھانے کی بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے مجھے گھن آتی ہے اور میں اس میں حرج محسوس کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے دل میں اس طرح کے وساوس پیدا نہ ہوں جن میں نصرانیت مبتلا رہی اور تم بھی انہیں کی طرح شک کرنے لگو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں جانب سے بھی واپس چلے جاتے تھے اور بائیں جانب سے بھی اور اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21969]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة مضارعة طعام النصرانية، وهذا إسناد ضعيف ،شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وقبيصة مجهول
الحكم: صحيح لغيره دون قصة مضارعة طعام النصرانية، وهذا إسناد ضعيف ،شريك سيئ الحفظ، وقد توبع، وقبيصة مجهول