أَبُو الْوَلِيدُ ، وَعَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَاد يَعْنِي ابْنَ لَقِيطٍ ، لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ ، بَشِيرٌ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدُ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ , حَدَّثَنَا إِيَاد يَعْنِي ابْنَ لَقِيطٍ , عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ , قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمَيْنِ مُوَاصِلَةً , فَمَنَعَنِي بَشِيرٌ , وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ , وَقَالَ: " يَفْعَلُ ذَلِكَ النَّصَارَى , وَلَكِنْ صُومُوا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ , فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ فَأَفْطِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ " لیلیٰ " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دو دن لگاتار روزے رکھنا چاہے تو حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روک دیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ اس طرح عیسائی کرتے ہیں البتہ تم اس طرح روزہ رکھو جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ روزہ رات تک رکھو " اور جب رات ہوجائے تو روزہ افطار کرلیا کرو "۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21955]
الحكم: إسناده صحيح