بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21935
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21935
حدیث نمبر: 21935 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا إِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ , لَمْ يُرَعْ أَهْلُ الدَّارِ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا , وَكَانَ مُسْلِمًا , فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اضْرِبُوهُ حَدَّهُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ , إِنْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةً قَتَلْنَاهُ , قَالَ:" فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ , فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَخَلُّوا سَبِيلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک آدمی رہتا تھا جو ناقص الخلقت اور انتہائی کمزور تھا ایک مرتبہ اس نے لوگوں کو حیرت زدہ کردیا کہ وہ گھر کی ایک لونڈی کے ساتھ " خباثت " کرتا ہوا پکڑا گیا، تھا وہ مسلمان حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس پر حد جاری کردو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو اتنا کمزور ہے کہ اگر ہم نے اسے سو کوڑے مارے تو یہ تو مرجائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر سو ٹہنیوں کا ایک گچھا لو اور اس سے ایک ضرب اسے لگادو اور پھر اس کا راستہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكن روي الحديث من غير وجه عن أبى أمامة، واختلف عليه فى وصله وإرساله، وأصح هذه الأوجه عنه المرسل، و إرساله لايضر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكن روي الحديث من غير وجه عن أبى أمامة، واختلف عليه فى وصله وإرساله، وأصح هذه الأوجه عنه المرسل، و إرساله لايضر
← پچھلی حدیث (21934) باب پر واپس اگلی حدیث (21936) →