يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا لِلضَّحَايَا , فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا مِنَ الْمَعْز , قَال: فَجِئْتُهُ بِهِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ جَذَعٌ! قَالَ: " ضَحِّ بِهِ" فَضَحَّيْتُ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے لئے بکریاں تقسیم کیں تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو چھ ماہ کا بچہ ہے (کیا اس کی قربانی ہوجائے گی؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسی کی قربانی کرلو چنانچہ میں نے اسی کی قربانی کرلی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21690]
الحكم: إسناده حسن