بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21686
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21686
حدیث نمبر: 21686 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , عَن أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ , فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً , فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا , فَأَدِّهَا إِلَيْهِ , وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا , ثُمَّ كُلْهَا , فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا , فَأَدِّهَا إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر مجھے گری پڑی کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہوئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اور اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21686]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (21685) باب پر واپس اگلی حدیث (21687) →