بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21083
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21083
حدیث نمبر: 21083 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي الْجَارِيَّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عِمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ الضَّمْرِيَّ ، عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي الْجَارِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمَارَةَ بْنَ حَارِثَةَ الضَّمْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ: " وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ"، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي، فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً، فَاجْتَزَرْتُهَا، عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ" إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً، تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا، فَلَا تَمَسَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن یثربی ضمری سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس خطبے میں شریک تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان منیٰ میں دیا تھا آپ نے منجملہ دیگر باتوں کے اس خطبے میں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کا مال اس وقت تک حلال نہیں ہے جب تک وہ اپنے دل کی خوشی سے اس کی اجازت نہ دے میں نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ اگر مجھے اپنے چچا زاد بھائی کا ریوڑ ملے اور میں اس میں سے ایک بکری لے کر چلا جاؤں تو کیا اس میں مجھے گناہ ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں ایسی بھیڑ ملے جو چھری اور چقماق کا تحمل کرسکتی ہو تو اسے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21083]
حکم دارالسلام
شطره الاول صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمارة بن حارثة
الحكم: شطره الاول صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمارة بن حارثة
← پچھلی حدیث (21082) باب پر واپس اگلی حدیث (21084) →