أَبُو نُوحٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لِنَفْسِي: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْكَ، قَالَ: فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي، فَتَقَدَّمْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ، قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِمُنَادٍ يُنَادِي: يَا عُمَرُ، أَيْنَ عُمَرُ؟ قَالَ: فَرَجَعْتُ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَزَلَتْ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق تین مرتبہ سوال کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا، میں نے اپنے دل میں کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھے روئے، تو نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تین مرتبہ ایک چیز کے متعلق دریافت کیا،لیکن انہوں نے تجھے کوئی جواب نہ دیا، یہ سوچ کر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آیا کہ کہیں میرے بارے قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک منادی میرا نام لے کر پکارتا ہوا آیا کہ عمر کہاں ہے؟ میں یہ سوچتا ہوا واپس لوٹ آیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے، وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت الفتح کی پہلی آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4177
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4177