بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20787
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20787
حدیث نمبر: 20787 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ، بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِهِ، فَقَالَ لِي:" يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ؟! أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ"، قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: آخِذًا بِيَدِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ كُلَّ خَيْرٍ، قَالَ: فَأَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا، قَالَ فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ، فَقَالَ" وَيْحَكَ يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَكَ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَلَعَ نَعْلَيْهِ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بشیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک تھام کر چل رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن خصاصیہ تم نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ تم اللہ سے ناراض ہو تم نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تم اللہ کے پیغمبر کے ساتھ چل رہے ہو میں نے عرض کیا واقع ہی میں نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ میں اللہ سے ناراض ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے ہر خیر عطا فرما رکھی ہے پھر ہم لوگ مشرکین کی قبروں کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ان لوگوں سے بہت ساری خیر آج بڑھ گئی تو پھر مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچے تو تین مرتبہ فرمایا کہ ان لوگوں نے بہت ساری خیر حاصل کرلی اسی دوران آپ کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتیاں پہنے چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے بھائی سبتی جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتاردو دو تین مرتبہ فرمایا کہ اس آدمی نے مڑ کر دیکھا جونہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نظریں پڑیں تو اس نے اپنی جوتیاں اتار دیں۔ حضرت بشیر جن کا زمانہ جاہلیت میں نام زحم بن معبد تھا جب انہوں نے ہجرت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ان کا نام پوچھا انہوں نے فرمایا کہ زحم۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں تمہارا نام بشیر ہے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک تھام کر چل رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن خصاصیہ تم نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ تم اللہ سے ناراض ہو تم نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تم اللہ کے پیغمبر کے ساتھ چل رہے ہو میں نے عرض کیا واقعی میں نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ میں اللہ سے ناراض ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے ہر خیر عطا فرما رکھی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ارے بھائی سبتی جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتار دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (20786) باب پر واپس اگلی حدیث (20788) →