عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، مَنْ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: " هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ"، فَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ، فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الضَّالُّونَ" يَعْنِي النَّصَارَى . قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ، أَوْ قَالَ: غُلَامُكَ فُلَانٌ، قَالَ:" بَلْ هُوَ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ وادی قری میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے بنوقین کے کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مغضوب علیھم ہیں اور یہودیوں کی طرف اشارہ فرمایا اس نے پوچھا پھر یہ کون ہے فرمایا یہ گمراہ ہیں اور نصاری کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے یہ سزا ہے اس چادر کی جو اس نے مال غنیمت خیانت کرکے لی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20736]
الحكم: إسناده صحيح