عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، شَيْخًا ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ قَيْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَدَنَا مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا، فَحَفَلَ، فَاحْتَلَبَ، قَالَ: وَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ، وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ، وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنَ، فَقَالَ: " لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّى"، قَالَهَا حَمَّادٌ: ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ كَشَفَ عَنْ صَدْرِهِ وَأَلْقَى السُّلَّى، ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ، حَتَّى رَأَيْتُ رُضَاضَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قبیلہ قیس کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہمارے پاس ایک طاقت ور اونٹ تھا جس پر کسی کو قدرت حاصل نہ ہوتی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے قریب گئے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور اس کا دودھ دوہا پھر جب میرے والد فوت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے میں اس وقت انہیں کفن میں لپیٹا چکا تھا اور درخت خرما کے کانٹے لے کر ان سے کفن کو باندھ دیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ کو کانٹوں سے عذاب نہ دو پھر ان کے سینے سے کانٹے کھول کر پھینک دیئے اور ان کے سینے پر اپنا لعاب دہن لگایا یہاں تک میں نے ان کی تری ان کے سینے پر دیکھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20698]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ القيسي
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ القيسي